تعلقات پیدا کرنے اور بڑھانے کا فن

ہمیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ تعلقات پیدا کرنے اور بڑھانے سے کامیابی کے حصول میں بھی کافی زیادہ مد د  ملتی  ہے۔ کیونکہ آپ اپنے دوست احباب سے بہت زیادہ مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ یادر ہے کہ اپنا مطلب نکالنے کے لئے دوست نہیں بنائے جاتے۔ اگر آپکے پیش نظر یہ مقصد ہو گا تو اس کا حتمی نتیجہ یہ ہو گا کہ جو نہی آپ کا مقصد پورا ہو جائے گا تو آپ اپنے ان دوستوں سے طوطے کی طرح آنکھیں پھیر لیں گے۔ انسان کو ایک معاشرتی حیوان ہونے کے ناطے بھی دوستوں کی ضرورت رہتی ہے اور چند ایسے احباب کی ضرورت بھی رہتی ہے جو دکھ سکھ میں مدد کر سکیں ۔ جن سے ہم اپنا دکھ بانٹ سکیں اور ان سے مفید مشورہ حاصل کر سکیں۔ یہاں یہ بھی یاد رکھیں کہ وقت پڑنے پر آپ کو بھی دوستوں کی مدد کرنی چاہیے۔ یہ نہ ہو کہ آپ تو ان سے مدد حاصل کریں اور یہ توقع نہ رکھیں کہ ان کو آپ کی مدد کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ کیونکہ بہتر تعلقات تب ہی قائم ہو سکتے ہیں، جب دونوں طرف خلوص کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ یعنی کچھ لو اور کچھ دو کے اصول ہمیشہ کار بندر ہیں ۔ اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ جس چیز کی توقع آپ اپنے دوستوں سے رکھتے ہیں۔ آپ خود بھی ان کو وہی کچھ دینے سے گریز نہ کریں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے احباب، آپ کا دکھ سکھ سنیں تو آپ بھی ان کے دکھ سکھ کی ہاتوں کو پورے غور اور توجہ سے سنیں۔ آپ کے لئے لازم ہے کہ چوبیس گھنٹوں میں کم از کم ایک بار اپنا جائزہ ضرور لیں اوردیکھیں کہ لوگوں کے ساتھ آپ کس طرح پیش آتے ہیں اور آپ اپنے آپ دوستوں اور ملنے والوں پر اپنی شخصیت کا کیسا تاثر چھوڑتے ہیں۔ اپنے آپ کو کیسا محسوس کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ آپ شکی مزاج ہوں اور ہر وقت دوسروں کو بھی شک کی نظر سے دیکھتے ہوں یا آپ یہ خیال کرتے ہوں کہ آپ کے احباب آپ کو اچھا نہیں سمجھتے یا آپ کی عدم موجودگی میں آپ کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ آپ کو ایسا ہر گز نہیں سوچنا چاہیے کیونکہ دیگر لوگ بھی صرف اپنے بارے سوچتے رہتے ہیں۔

ان کے پاس اتنا وقت کہاں کہ وہ آپ کے بارے یاد دوسروں کے بارے کچھ سوچیں۔ میں یہ بات او پر بیان کر چکا ہوں کہ آپ لوگوں سے تعلقات بے لوث ہو کر پیدا کریں۔ ہمیشہ خود غرضی کی سوچ سے اجتناب کریں۔ ہو سکتا ہے کہ کسی وقت آپ کے احباب کے علم میں یہ بات آجائے کہ آپ تو مطلبی ہیں، تو اس کا انجام یہ ہوگا کہ آپ کے دوست احباب آپ سے کنارہ کشی کر لیں گے اور آپ تنہا رہ جائیں گے۔ بہت زیادہ شرمیلا پن نہ صرف ترقی کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہے بلکہ دوست بنانے میں بھی مد ثابت نہیں ہوتا۔ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جولوگ حد سے زیادہ شرمیلے ہوتے ہیں وہ کسی سے دوستی کرنے میں پہل کرنے سے گھبراتے ہیں۔ البتہ کوئی اور اس سلسلہ میں دوستی کا ہاتھ بڑھائے تو بھی شرمیلے لوگ ایک جھجک محسوس کرتے ہیں۔ دوست احباب بنانے میں جرات کا مظاہرہ ضروری ہے۔ بصورت دیگر آپ کا حلقہ احباب صرف چند نفوس تک محدود رہے گا۔ اس میدان میں قدم بڑھانے کے لئے کسی موقع کی تلاش میں رہنا فضول ہے۔ آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا۔ کہ موقع کسی کے دروازے تک خود پہنچا ہو۔ بلکہ موقع تو پیدا کئے جاتے ہیں۔ ایسی خاصیت بھی قدرت کسی کسی کو عطا کرتی ہے۔ ایک جیسے مشاغل رکھنے والوں یا ایک ہی قسم کا کاروبار کرنے والوں یا ایک جیسی دلچسپی رکھنے والوں میں دوستانہ مراسم بہت جلد قائم ہو جاتے ہیں۔ جب بھی آپ دوست بنانا شروع کریں تو ہمیشہ ان لوگوں سے رابطہ رکھیں۔ جن کے مشاغل دلچسپیاں کاروبار یا مزاج آپ سے مطابقت رکھتے ہوں۔ ایسے لوگوں سے آپ کے مراسم دیر پا ثابت ہوں گے۔ ایسے ہی دوستوں سے آپ اور آپ سے وہ دوست خوب فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ ایک دوسرے کے تجربات سےبہت فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اپنے دوستوں سے بھی بھی ان کی حیثیت سے زیادہ کا مطالبہ نہ کریں۔ مبادا آپ کی دوستی میں فرق آ سکتا ہے۔ مجھے ایک عقل مند کا بہت ہی حسین قول یاد آ رہا ہے کہ: دوست کو کبھی آزمانے کی کوشش نہ کریں۔ ممکن ہے کہ وہ کسی وجہ سے تمہاری آزمائش پر پورا نہ اتر سکے۔ لیکن اس کے نتیجہ میں آپ کے تعلقات ضرور کمزور ہو جائیں گے ۔” دوستی کی راہ میں اعتبار کی بھی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ آپ جن لوگوں کو دوست بنانا چاہتے ہیں یا تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں۔ پہلے ان کو مختلف طریقوں سے پر کھ کر یہ یقین کرلیں کہ ان پر اعتبار کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ ہمیشہ دوست ان لوگوں کو بنا ئیں جو قابل اعتبار ہوں ۔ جب ایک بار ان سے دوستی قائم ہو جائے تو پھر ان پر اعتبار کرتے رہیں۔ اگر کسی موقع پر آپ کے دل و دماغ میں ذرا برابر بھی شک آگیا تو دوستی کی راہ میں خلیج واقع ہو جائے گی۔ دوستی کی بنیادوں میں دراڑیں پڑ جائیں گی۔

دوستی کے معاملے میں عادات واطوار بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ جیسے وضع قطع اور چہرے کے اثرات کسی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی طرح عادت اور طور طریقے بھی دوسروں پر اثر چھوڑتے ہیں۔ اگر کسی کی عادت میں بناوٹ کا عنصر شامل ہے تو یہ کسی وقت بھی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ اکثر اوقات یہ دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی ملازمت کا متلاشی انٹرویو لینے والے کے سامنے اوورا یکیتنگ کا مظاہرہ کرتے ہیں اور وہ کچھ بن کر دکھانے کی کوشش میں ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ کیونکہ ملازمت مل جانے کے بعد وہ کچھ بھی نہیں کر پاتے ۔ اس طرح ان کی بناوٹ کی عادت انہیں ذریعہ روزگار سے بھی محروم کر دیتی ہے۔ اگر آپ کے طور طریقوں میں بناوٹ کی بجائے قدرتی پن ہوگا تو وہ قدرتی پن آپ کے مخاطب دیکھنے والوں پر مثبت اثر ڈالے گا۔ یہ بات عام طور پر دیکھنے آئی ہے کہ ہمارا نوجوان طبقہ اپنی گفتگو میں دیگر زبانوں کے الفاظ بکثرت استعمال کرتا ہے اور اب تو ہمارا با شعور طبقہ یعنی ادھیڑ عمر لوگ بھی بے دھڑک انگریزی الفاظ اپنی بات چیت میں استعمال کر جاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ان کا خیال ہو کہ ایسا کرنے سے ان کی انگریزی دانی کا رعب اپنے مد مقابل پر پڑے گا۔ جبکہہوتا یہ ہے کہ وہ اگر کبھی غلط الفاظ اور غلط موقع پر دیگر زبان کے الفاظ بول جاتے ہیں تو ان کی قلعی کھل جاتی ہے۔

ہمیشہ یہ کوشش کریں کہ دوران گفتگو وہ زبان استعمال کریں جس پر آپ کو مکمل عبور حاصل ہو نیز اگر آپ زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں تو اپنے علاقے کی زبان بھی صرف اپنے علاقہ کے لوگوں سے بولیں اس طرح آپ بلا تکلف بات کر سکیں گے۔ خواہ مخواہ دوسری زبانوں کے چکر میں نہ پڑیں۔ جب آپ اپنی زبان میں بات کرتے ہیں تو آپ کو اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ آپ کا مخاطب آپ کی بات نہیں سمجھ رہا۔ نیز اپنی زبان میں آپ اپنا مافی الضمیر بھی آسانی کے ساتھ واضح کر سکتے ہیں۔ جبکہ اپنی زبان کی بجائے دوسری زبانوں میں بات کرنا ایسے لگتا ہے کہ آپ جب آپ کسی کے آمنے سامنے بیٹھے بات چیت کر رہے ہوں تو اپنے آپ کو بہتر سامع (سنے والا ) ثات کریں۔ دوسروں کے دکھ سکھ کو بڑے غور سے سنتے رہیں اور گاہے گا ہے کوئی نہ کوئی سوال بھی کرتے جائیں۔ اس سے آپ کے مخاطب پر بہت اچھا اثر مرتب ہو گا۔ اسے اس بات کا یقین ہو جائے گا کہ آپ اس کی باتیں بڑے انہماک اور توجہ سے سن رہے ہیں۔ اس طرح وہ آپ کو اپنا ہمدرد سمجھے گا نہ کہ آپ اپنی ہی کتھا کہانی سنانے کے جوش میں محفل پر چھا جانے کی کوشش کریں ایسا کرنے سے آپ کے اچھے تعلقات بھی خراب ہو جانے کا خطرہ رہے گا۔ ہمیشہ بات کرتے ہوئے اپنے چہرے پر بشاشت قائم رکھیں ۔ اگر آپکے چہرے سے غم اور درد کے تاثرا ظاہر ہوں گے تو یہ بھی نہیں ہو گا کہ لوگ آپ کے گرد جمع ہوں بلکہ جو چند احباب پہلے سے بیٹھے ہوں گے وہ بھی کوئی نہ کوئی بہانہ با کر بھاگ جانے کی تگ و دو کریں گے۔ کیونکہ رونی صورت کسی کو بھلی معلوم نہیں ہوتی۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ مسکراتے چہرے دیکھتے رہیں اور مسکرانے والے چہروں کو ہی دنیا والے پسند کرتے ہیں۔ آج کے مصروف دور میں کسی کو اتنی

لاف زنی کر رہے ہیں یا جھوٹ کا کہارا لے رہے ہیں۔ اسی طرح بات چیت کرتے ہوئے بڑی بڑی ڈینگیں مارنا اور ایکٹنگ کرتا یا شیخی بگھارنا اخلاقی طور پر بھی بہت معیوب ہے اور اگر آپ کے سامع کو اس بات کا علم ہو جائے تو وہ آپ کی کچی باتوں پر بھی کان نہیں دھرے گا۔فرصت کہاں کہ وہ دوسروں کے دکھڑے سنتے رہیں یا ان کی رونی شکل وصورت دیکھتے رہیں۔ دنیا والوں کا یہ خیال ہے کہ کسی کو معمول دیکھ کر انسان خود بھی مغموم ہو جاتا ہے اور اس طرح اس کا وقت اچھا نہیں گزرتا۔

اب یہ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ کا مسکرا تا اور خوشیوں بھرا چہرہ لیکر دنیا والوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہیں گے یا منہ بسورے اور رونی شکل بنا کر اپنے احباب کو بھا گئے اور دور

رہنے پر آمادہ کرنا چاہیں گے۔

ایک اچھے دوست کی پہچان کے لئے اردو کی مشہور مثل پیش ہے۔ دوست وہ جو مصیبت میں کام آئے ۔”

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *